ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل تعلقہ میں نیشنل ہائی وے توسیعی منصوبہ بن گیا عوام کے لئے عذاب۔ کھچوے کی رفتارسے ہورہا ہے تعمیری کام!

بھٹکل تعلقہ میں نیشنل ہائی وے توسیعی منصوبہ بن گیا عوام کے لئے عذاب۔ کھچوے کی رفتارسے ہورہا ہے تعمیری کام!

Thu, 13 Jun 2019 22:01:31    S.O. News Service

بھٹکل 13/جون (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ میں نیشنل ہائی وے 66کا فورلین توسیعی منصوبہ گزشتہ 6-7برسوں سے کچھوے کی رفتار کے ساتھ چل رہا ہے جس کی وجہ سے عوام کو ایک عذاب سے گزرنا پڑ رہا ہے اور عوام کی مشکلات اور ان کادکھ سننے والا کوئی بھی نہیں ہے۔

سست رفتاری سے کام آگے بڑھنے کی وجہ سے سڑک حادثات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ تاحال دسیوں جانیں اس تعمیری کام کی نذر ہوگئی ہیں، لیکن ٹھیکے دارکی طرف سے پیشگی احتیاطی اقدامات کرنے کی طرف ذرا بھی دھیان نہیں دیا جارہاہے۔فور لین سڑک کاکام جنوبی کینرا سے شمالی کینرا میں پہنچتے ہی یہاں کے عوام چوکنا ہوگئے تھے۔جن کے پاس گُنٹہ دو گُنٹہ زمین تھی اگر اس میں 60میٹر نیشنل ہائی وے کے لئے مختص ہوجائے تو پھر نیشنل ہائی وے کے قریب رہنے والے عوام کی بڑی تعداد بے گھر ہوجانے کی نوبت آنا یقینی تھا۔ اس لئے عوام کے مسائل لے کر ایک وفد مرکزی حکومت کے پاس پہنچااور اس کے نتیجے میں یہاں پر چوڑائی کو 45میٹر تک محدود کردیا گیا۔اس دوران شہر کی خوبصورتی برقرار رکھنے اور عوام کواپنی زمینات سے محروم ہونے سے بچانے کے لئے بھٹکل میں بائی پاس کا مطالبہ بھی ہورہاتھا، لیکن بعد میں اس پر خاموشی اختیار کرلی گئی۔

شیرالی میں 750میٹر تک کی سڑک کی چوڑائی کو30میٹر تک محدود رکھنے کے خلاف حادثات اور دیگر مسائل کے پیش نظرچورائی کو 45میٹر تک رکھنے کا مطالبہ ہورہاتھا مگر یہ معاملہ سیاسی رنگ اختیار کرنے کے بعد اس کی حمایت اور مخالفت میں احتجاج، دھرنا اور میمورنڈم جیسی سرگرمیاں سامنے آئیں، لیکن بالآخر یہ چوڑائی 30میٹر تک ہی رکھی گئی ہے۔

بھٹکل تعلقہ میں جب سے نیشنل ہائی وے کی توسیع کا کام شروع ہوا ہے،یہاں پر حادثات کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ان حادثات میں کئی لوگ ہلاک ہوگئے تو سیکڑوں افراد زخمی اور معذور ہوگئے ہیں۔لیکن تعمیری کام کی ٹھیکے دار کمپنی ہو یا پھر متعلقہ محکمہ کے افسران، کوئی بھی عوام کے جان ومال کی حفاظت کے بارے میں نہ سوچ رہا ہے نہ کوئی احتیاطی تدبیر اختیارکررہا ہے۔سڑک کے توسیعی منصوبے یا عوام کی زمینات تحویل میں لینے کے سلسلے میں عوام کو کسی بھی قسم کی درست معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔اس منصوبے کا حقیقی خاکہ افسران کی طرف سے ابھی تک عوام کے سامنے نہیں آیا ہے۔مختلف مقامات پر تحویل میں لی گئی زمینوں کا جو معاوضہ دیا گیا ہے،اس میں کافی تفاوت دیکھنے کو ملا ہے اور اس تعلق سے کوئی صحیح جواب دینے والا بھی موجود نہیں ہے۔بھٹکل شہر میں کہاں کتنی توسیع کی جائے گی اس بارے میں یقینی اور حتمی بات بتانے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہے۔ شمس الدین سرکل پر فلائی اوور تعمیر کرنے سے تقریباً نصف شہر برباد ہوجائے گا۔مگر نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کے افسران اس معاملے میں بھی عوام کو ابھی تک اندھیرے میں رکھتے ہوئے اپنا کام آگے بڑھانے کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔


Share: